صفحات

Saturday, 7 January 2017

صحرا اٹھا کے پھینک یہ دریا اٹھا کے پھینک

صحرا اٹھا کے پھینک یہ دریا اٹھا کے پھینک
موجود کا یہ سلسلہ سارا اٹھا کے پھینک
ترتیب کائنات کی کچھ اور ہی بنا 
بوسیدہ ہو گیا ہے یہ نقشہ اٹھا کے پھینک
سکے کھنک رہے ہیں عزازیل کے یہاں 
میرے خدا یہ کاسۂ دنیا اٹھا کے پھینک
حرف آ رہا ہے صنعتِ کوزہ گری پہ اب 
سو چاک پر رکھا ہے جو کوزہ اٹھا کے پھینک
دنیائے بے معاش میں خلقت خراب ہے 
یہ سب کباڑ خانہ یہ کچرا اٹھا کے پھینک

جاوید احمد

No comments:

Post a Comment