صفحات

Saturday, 7 January 2017

جو اپنے ہونٹوں میں لفظ اس نے دبا لیا تھا

جو اپنے ہونٹوں میں لفظ اس نے دبا لیا تھا 
اسی سے میں نے غزل کا مطلع اٹھا لیا تھا
بڑی مہارت سے گفتگو میں ملا لیا تھا 
وہ جھوٹ جو اس نے آتے آتے بنا لیا تھا
مجھے پتہ تھا وہ کن ہواؤں میں اڑ رہا تھا 
سو میں نے بھی اپنے دل کی لو کو بڑھا لیا تھا
اسی کے قول و قسم کی تفصیل ہے یہ ساری 
سخن کے پردے میں جس کو میں نے چھپا لیا تھا

جاوید احمد

No comments:

Post a Comment