جو اپنے ہونٹوں میں لفظ اس نے دبا لیا تھا
اسی سے میں نے غزل کا مطلع اٹھا لیا تھا
بڑی مہارت سے گفتگو میں ملا لیا تھا
وہ جھوٹ جو اس نے آتے آتے بنا لیا تھا
مجھے پتہ تھا وہ کن ہواؤں میں اڑ رہا تھا
اسی کے قول و قسم کی تفصیل ہے یہ ساری
سخن کے پردے میں جس کو میں نے چھپا لیا تھا
جاوید احمد
No comments:
Post a Comment