صفحات

Monday, 9 January 2017

بھری محفل میں تنہائی بہت ہے

بھری محفل میں تنہائی بہت ہے
کسی کی یاد پھر آئی بہت ہے
سرابوں میں سفر کرتے ہوئے بھی
حقیقت کی سزا پائی بہت ہے
اب ان آنکھوں میں تصویر اپنی آ دیکھ
تمنا رنگ پھر لائی بہت ہے
تیرے حصے میں ہر قطرہ ہے دریا
میرے حصے میں پیاس آئی بہت ہے
مثالِ زلف میرا نقش بھی ہو
بکھر جانے میں زیبائی بہت ہے
چلو نادؔر! سنا ہے آسماں پر
صداقت کی پذیرائی بہت ہے​

میکس بروس نادر

2 comments:

  1. حضور آپکی تو کیا ہی بات ہے۔۔۔ بھئی واہ😍

    ReplyDelete