کون آیا مِرے پہلو میں یہ خواب آلودہ
زلف برہم زدہ و چشم حجاب آلودہ
کس نے پہلو میں بٹھایا مجھے شرما کر
کس کے ہاتھوں میں لرزش یہ حجاب آلودہ
کس کے ملبوس سے آتی ہے حنا کی خوشبو
پھر ہم آغوشی کے موسم نے بکھیرے گیسو
پھر فضائیں نظر آتی ہیں سحاب آلودہ
اختر شیرانی
No comments:
Post a Comment