صفحات

Saturday, 7 January 2017

وطن اہل زمیں میں بٹ گیا ہے

کراچی کرچیوں میں بٹ گیا ہے
یہ اپنے آئینے سے کٹ گیا ہے
تسلط کی کشا کش میں بالآخر
یہ چشمہ خاروخس سے پٹ گیا ہے
ملی ہے یوں بھی دادِ تشنہ کامی
جو ہم پہنچے تو دریا ہٹ گیا ہے
کل آ جائے گا وہ میرے مقابل
ابھی جو چوم کر چوکھٹ گیا ہے
اسی کا سامنا ہر وقت ہے جو
بظاہر سامنے سے ہٹ گیا ہے
وطن اہلِ وطن کا کب ہے محسؔن
وطن اہلِ زمیں میں بٹ گیا ہے

محسن بھوپالی

No comments:

Post a Comment