صفحات

Friday, 24 July 2020

تمہیں خبر ہے کہ جس وقت رات ہوتی ہے

تمہیں خبر ہے کہ جس وقت رات ہوتی ہے
خدا سے نیند کے بارے میں بات ہوتی ہے
کنارِ جسم پہ رکھے چراغ جلتے ہیں
جب اس وجود میں ضم میری ذات ہوتی ہے
لکھے وہ لوحِ قُدس پر جو فیصلہ چاہے
قلم بھی اس کا، اسی کی دوات ہوتی ہے
مِرے مکان سے لپٹی قدیم تنہائی
بس اب تو میرے لیے کائنات ہوتی ہے
نبیؐ کا عشق ہو دل میں غمِ حسین کے ساتھ
رضائے رب بھی ہو شامل تو نعت ہوتی ہے
بہت گماں ہے تجھے اپنے حسن کی لَو پر
بھلا چراغ کی کتنی حیات ہوتی ہے
وہ واقعہ بھی عجیب و غریب تھا انجم
وہ جس میں لمس کی آخر وفات ہوتی ہے

آصف انجم

No comments:

Post a Comment