تمہیں خبر ہے کہ جس وقت رات ہوتی ہے
خدا سے نیند کے بارے میں بات ہوتی ہے
کنارِ جسم پہ رکھے چراغ جلتے ہیں
جب اس وجود میں ضم میری ذات ہوتی ہے
لکھے وہ لوحِ قُدس پر جو فیصلہ چاہے
مِرے مکان سے لپٹی قدیم تنہائی
بس اب تو میرے لیے کائنات ہوتی ہے
نبیؐ کا عشق ہو دل میں غمِ حسین کے ساتھ
رضائے رب بھی ہو شامل تو نعت ہوتی ہے
بہت گماں ہے تجھے اپنے حسن کی لَو پر
بھلا چراغ کی کتنی حیات ہوتی ہے
وہ واقعہ بھی عجیب و غریب تھا انجم
وہ جس میں لمس کی آخر وفات ہوتی ہے
آصف انجم
No comments:
Post a Comment