صفحات

Thursday, 23 July 2020

بلا سے ذات یا شجرے میں لکھ دیا جائے

بلا سے ذات یا شجرے میں لکھ دیا جائے
تمہارا غم مِرے حصے میں لکھ دیا جائے
میں پتھروں میں ستارے تلاش کرتی تھی
سو اشک آنکھ کے ورثے میں لکھ دیا جائے
زمین کس کی کفالت میں ہےفلک کس کی؟
یہ فیصلہ میرے حجرے میں لکھ دیا جائے
وبا کے دن ہیں، مقید رہو گھروندوں میں
یہ جملہ شہر سرائے میں لکھ دیا جائے
قبولیت کا بس اک پل اے میرے رب ِکریم
کسی دعا، کسی سجدے میں لکھ دیا جائے
کہ ہم تو ایسے پرندے ہیں جن کی قسمت کا
اڑا کے رزق بھی پنجرے میں لکھ دیاجائے
سو اب بہار جو پلٹے تو اس کو ایمان جی
بجھے گھروں کے جھروکے میں لکھ دیا جائے

ایمان قیصرانی

No comments:

Post a Comment