آج میں نے اپنے گھر کا نمبر مٹا دیا
اور گلی کی پیشانی پر ثبت گلی کا نام مٹا دیا
اور پھر سڑک کی سمت کا نشان پونچھ دیا
پھر بھی اگر تم مجھے تلاش کرنا چاہو
تو ہر ملک کے، ہر شہر کی، ہر گلی کا
دروازہ کھٹکھٹاؤ
جہاں بھی آزاد روح کی جھلک پاؤ
سمجھنا
وہیں میرا گھر ہے
امرتا پریتم
No comments:
Post a Comment