صفحات

Thursday, 1 April 2021

ہمارا بخت کالا حاشیہ ہے

ہمارا بخت کالا حاشیہ ہے 

ہماری زندگی اک بددعا ہے 

محبت ہم کسی سے کیا کریں گے 

ہمیں تو نفسیاتی مسئلہ ہے 

تِری دنیا سے میں اب تھک چکی ہوں 

مجھے آواز دے گر تُو خدا ہے 

میں تیرے روبرو روئی نہیں ہوں

یہ میری بے بسی یا حوصلہ ہے

مِری دیوانگی پر ہنسنے والو 

یہی تو آگہی کا راستہ ہے

مِری آنکھوں میں سپنے مر چکے ہیں 

مِری آنکھوں کو دیمک کھا رہا ہے 

تمہیں درکار ہوں جتنی بتانا 

ہمارا وحشتوں کا سلسلہ ہے 

غموں کے ڈھیر میں اتنے برس تک

ہمارا زندہ رہنا معجزہ ہے


ثروت مختار

No comments:

Post a Comment