ہمارا بخت کالا حاشیہ ہے
ہماری زندگی اک بددعا ہے
محبت ہم کسی سے کیا کریں گے
ہمیں تو نفسیاتی مسئلہ ہے
تِری دنیا سے میں اب تھک چکی ہوں
مجھے آواز دے گر تُو خدا ہے
میں تیرے روبرو روئی نہیں ہوں
یہ میری بے بسی یا حوصلہ ہے
مِری دیوانگی پر ہنسنے والو
یہی تو آگہی کا راستہ ہے
مِری آنکھوں میں سپنے مر چکے ہیں
مِری آنکھوں کو دیمک کھا رہا ہے
تمہیں درکار ہوں جتنی بتانا
ہمارا وحشتوں کا سلسلہ ہے
غموں کے ڈھیر میں اتنے برس تک
ہمارا زندہ رہنا معجزہ ہے
ثروت مختار
No comments:
Post a Comment