بدل بدل کے تِری بے رخی نے دیکھا ہے
یہ حادثہ بھی مِری بے بسی نے دیکھا ہے
مجھے خبر ہے کہ ظلمت ٹھہر نہیں سکتی
مجھے پتا ہے اسے روشنی نے دیکھا ہے
جو پورے چاند سے بڑھ کر حسین ہے یارو
وہ اک ستارہ ہے جس کو سبھی نے دیکھا ہے
یہ راز چھپ نہیں سکتا ہے میری بستی کا
ستم کا سیلِ رواں ہر کسی نے دیکھا ہے
تُو جس بھی روپ میں آئے تو جان جائیں گے
خیالِ یار تجھے عاشقی نے دیکھا ہے
وہی نثار ترابی جبیں کا حاصل ہے
وہ ایک سجدہ جسے بندگی نے دیکھا ہے
نثار ترابی
No comments:
Post a Comment