صفحات

Thursday, 1 April 2021

بدل بدل کے تری بے رخی نے دیکھا ہے

 بدل بدل کے تِری بے رخی نے دیکھا ہے 

یہ حادثہ بھی مِری بے بسی نے دیکھا ہے

مجھے خبر ہے کہ ظلمت ٹھہر نہیں سکتی

مجھے پتا ہے اسے روشنی نے دیکھا ہے

جو پورے چاند سے بڑھ کر حسین ہے یارو 

وہ اک ستارہ ہے جس کو سبھی نے دیکھا ہے 

یہ راز چھپ نہیں سکتا ہے میری بستی کا 

ستم کا سیلِ رواں ہر کسی نے دیکھا ہے 

تُو جس بھی روپ میں آئے تو جان جائیں گے 

خیالِ یار تجھے عاشقی نے دیکھا ہے 

وہی نثار ترابی جبیں کا حاصل ہے 

وہ ایک سجدہ جسے بندگی نے دیکھا ہے


نثار ترابی

No comments:

Post a Comment