صفحات

Thursday, 20 May 2021

اک جسم ہیں کہ سر سے جدا ہونے والے ہیں

 اک جسم ہیں کہ سر سے جدا ہونے والے ہیں

ہم بھی زباں سے اپنی ادا ہونے والے ہیں

تعریف ہو رہی ہے ابھی تھوڑی دیر بعد

خوش ہونے والے سارے خفا ہونے والے ہیں

سنتے ہیں وہ انار کلی کھلنے والی ہے

کہئے کہ ہم بھی موج صبا ہونے والے ہیں

قربت میں اس کی اور ہی کچھ ہونے والے تھے

اس سے بچھڑ کے دیکھیے کیا ہونے والے ہیں

منتر کی طرح اس کو پڑھے جا رہے ہیں ہم

اک دن طلسم ہوش ربا ہونے والے ہیں


احمد صغیر 

No comments:

Post a Comment