صفحات

Sunday, 2 May 2021

عشق ممکن ہی نہیں دل سے بھلایا جا سکے

 عشق ممکن ہی نہیں دل سے بھلایا جا سکے

روگ جو دل کو لگا ہے وہ مٹایا جا سکے

رینگتی ہے شام ڈھلتے سائے دن کے دیکھ کر

رات لے آئی ہے غم کو کیا بتایا جا سکے

پھر مجھے تنہائی ہی ڈستی رہے گی رات بھر

صبح جب ہو گی تو ہو گی کیسے لایا جا سکے

رات کے سوئے پرندے جاگ جائیں گے صبح

رات آنکھوں میں کٹی تو کیوں اٹھایا جا سکے

پوچھتے ہیں بعد میں انور یہ پاگل کون تھا

کیسے ممکن ہے اسے دل سے ہٹایا جا سکے


انور زاہدی

No comments:

Post a Comment