صفحات

Sunday, 2 May 2021

اگر تم میرے لیے ایک نظم لکھ سکتے

 اگر تم

میرے لیے ایک نظم لکھ سکتے

تو میں تمہاری شاعری کا

حسین عنوان بن جاتی

تمہاری پہچان بن جاتی

اگر تم

میرے لیے ایک نظم لکھ سکتے

تو میں پھول بن کر

روش روش تمہاری راہ پہ بکھر جاتی

اگر تم میرے سپنوں کو

حسیں تعبیر دے جاتے

تو میں

تمہاری راتوں کو روشنی کی بشارت دیتی

اگر تم

میرا ہاتھ تھام لیتے

تو میں کٹھن راہوں کو

سرمئ بادلوں کی سیڑھیاں بنا لیتی

انہیں قوس و قزح کے رنگوں سے

بہت رنگین کر دیتی

اگر تم اپنی سانسوں کو

میری زلفوں کی سحر انگیز خوشبو سے

معطر کر لیتے

تو میں تمہاری زیست کے

ہر اک لمحے

ہر اک پل کو

بہاروں سا بنا دیتی

اگر تم جاتے جاتے

پلٹ جاتے

مسکرا دیتے

تو میں

مگر یہ سب، تبھی ہوتا

اگر تم

میرے لیے اک نظم لکھ سکتے

کاش تم

میرے لیے اک نظم لکھ سکتے


نیرہ نور خالد

No comments:

Post a Comment