اگر تم
میرے لیے ایک نظم لکھ سکتے
تو میں تمہاری شاعری کا
حسین عنوان بن جاتی
تمہاری پہچان بن جاتی
اگر تم
میرے لیے ایک نظم لکھ سکتے
تو میں پھول بن کر
روش روش تمہاری راہ پہ بکھر جاتی
اگر تم میرے سپنوں کو
حسیں تعبیر دے جاتے
تو میں
تمہاری راتوں کو روشنی کی بشارت دیتی
اگر تم
میرا ہاتھ تھام لیتے
تو میں کٹھن راہوں کو
سرمئ بادلوں کی سیڑھیاں بنا لیتی
انہیں قوس و قزح کے رنگوں سے
بہت رنگین کر دیتی
اگر تم اپنی سانسوں کو
میری زلفوں کی سحر انگیز خوشبو سے
معطر کر لیتے
تو میں تمہاری زیست کے
ہر اک لمحے
ہر اک پل کو
بہاروں سا بنا دیتی
اگر تم جاتے جاتے
پلٹ جاتے
مسکرا دیتے
تو میں
مگر یہ سب، تبھی ہوتا
اگر تم
میرے لیے اک نظم لکھ سکتے
کاش تم
میرے لیے اک نظم لکھ سکتے
نیرہ نور خالد
No comments:
Post a Comment