عشق ممکن ہی نہیں دل سے بھلایا جا سکے
روگ جو دل کو لگا ہے وہ مٹایا جا سکے
رینگتی ہے شام ڈھلتے سائے دن کے دیکھ کر
رات لے آئی ہے غم کو کیا بتایا جا سکے
پھر مجھے تنہائی ہی ڈستی رہے گی رات بھر
صبح جب ہو گی تو ہو گی کیسے لایا جا سکے
رات کے سوئے پرندے جاگ جائیں گے صبح
رات آنکھوں میں کٹی تو کیوں اٹھایا جا سکے
پوچھتے ہیں بعد میں انور یہ پاگل کون تھا
کیسے ممکن ہے اسے دل سے ہٹایا جا سکے
انور زاہدی
No comments:
Post a Comment