صفحات

Tuesday, 25 May 2021

تب سے سویا ہی نہیں جب سے یہ جاگا ہوا ہے

 تب سے سویا ہی نہیں جب سے یہ جاگا ہوا ہے

اک عجب شوق مرے درد نے پالا ہوا ہے

جانے کیا کیا یہ گنواتا ہوا تیرا ہوا ہے

یہ جو اک شخص تری راه میں بیٹھا ہوا ہے

کل یہ مت کہنا کہ یہ آج تجھے کیا ہوا ہے

یہ تو وه فن ہے جو تیرا ہی سکھایا ہوا ہے

تم نے پھر آج وہی زخم کریدا ہوا ہے

وه تو اک حادثہ تها، ہو گیا، اب کیا ہوا ہے

دل سے کیا کرنا ہے یہ تم پہ ہی چھوڑا ہوا ہے

ہم نے بیچا ہوا ہے، تم نے خریدا ہوا ہے

اور اب آپ یہ کہتے ہیں کرو اور بھی صبر

بڑی مشکل سے یہاں دل کو سنبهالا ہوا ہے

اس نے جو فیصلہ کرنا تھا وه کر بیٹھا ہے

اب میں کیا بولوں، وه پہلے ہی سے سمجھا ہوا ہے

یہ جو سنسار ہے آج اس کا تو کل اس کا ہے

نہ تمہارا ہوا ہے اور نہ ہمارا ہوا ہے

تم جسے روگ سمجھتے ہو، زمانے والو

ہم نے یہ درد تو دل دے کے خریدا ہوا ہے

جانے کیا کیا ہوا ہے اس دل بے چاره کے ساتھ

کبھی ایسا ہوا ہے اور کبھی ویسا ہواہے

جو بھی بیتی ہے وه کس کس کو بتائیں کیا کیا

جب بھی، جو بهی ہوا، جیسا ہوا، اچها ہوا ہے

ہم بہت خوش تھے کہ ہر لفظ ہمارا ہے بلیغ

اور وه بولے کہ یہ کیسا تماشا ہوا ہے


شجاعت علی راہی

No comments:

Post a Comment