تب سے سویا ہی نہیں جب سے یہ جاگا ہوا ہے
اک عجب شوق مرے درد نے پالا ہوا ہے
جانے کیا کیا یہ گنواتا ہوا تیرا ہوا ہے
یہ جو اک شخص تری راه میں بیٹھا ہوا ہے
کل یہ مت کہنا کہ یہ آج تجھے کیا ہوا ہے
یہ تو وه فن ہے جو تیرا ہی سکھایا ہوا ہے
تم نے پھر آج وہی زخم کریدا ہوا ہے
وه تو اک حادثہ تها، ہو گیا، اب کیا ہوا ہے
دل سے کیا کرنا ہے یہ تم پہ ہی چھوڑا ہوا ہے
ہم نے بیچا ہوا ہے، تم نے خریدا ہوا ہے
اور اب آپ یہ کہتے ہیں کرو اور بھی صبر
بڑی مشکل سے یہاں دل کو سنبهالا ہوا ہے
اس نے جو فیصلہ کرنا تھا وه کر بیٹھا ہے
اب میں کیا بولوں، وه پہلے ہی سے سمجھا ہوا ہے
یہ جو سنسار ہے آج اس کا تو کل اس کا ہے
نہ تمہارا ہوا ہے اور نہ ہمارا ہوا ہے
تم جسے روگ سمجھتے ہو، زمانے والو
ہم نے یہ درد تو دل دے کے خریدا ہوا ہے
جانے کیا کیا ہوا ہے اس دل بے چاره کے ساتھ
کبھی ایسا ہوا ہے اور کبھی ویسا ہواہے
جو بھی بیتی ہے وه کس کس کو بتائیں کیا کیا
جب بھی، جو بهی ہوا، جیسا ہوا، اچها ہوا ہے
ہم بہت خوش تھے کہ ہر لفظ ہمارا ہے بلیغ
اور وه بولے کہ یہ کیسا تماشا ہوا ہے
شجاعت علی راہی
No comments:
Post a Comment