صفحات

Wednesday, 16 June 2021

بے رخی حد سے بڑھ گئی ہے جی

 بے رخی حد سے بڑھ گئی ہے جی

دل میں انی سی گَڑھ گئی ہے جی

سیکھنا تھا سبق کتابوں سے

زندگی ہم کو پڑھ گئی ہے جی

عشق میں یوں ہوئے ہیں خاک نشیں

انا سولی پہ چڑھ گئی ہے جی

ہائے کیا دن تھے، خواب بُنتے تھے

اب تو دنیا اُجڑ گئی ہے جی

بات جو روک لی تھی، لب سی کر

مانندِ پھول جھڑ گئی ہے جی

ہم کہ معصوم اور سادہ غزل

بات کیوں اتنی بڑھ گئی ہے جی


غزالہ فیضی

No comments:

Post a Comment