بے رخی حد سے بڑھ گئی ہے جی
دل میں انی سی گَڑھ گئی ہے جی
سیکھنا تھا سبق کتابوں سے
زندگی ہم کو پڑھ گئی ہے جی
عشق میں یوں ہوئے ہیں خاک نشیں
انا سولی پہ چڑھ گئی ہے جی
ہائے کیا دن تھے، خواب بُنتے تھے
اب تو دنیا اُجڑ گئی ہے جی
بات جو روک لی تھی، لب سی کر
مانندِ پھول جھڑ گئی ہے جی
ہم کہ معصوم اور سادہ غزل
بات کیوں اتنی بڑھ گئی ہے جی
غزالہ فیضی
No comments:
Post a Comment