شاخ سے ٹوٹ کے گلدان میں آ جائے گا
پھر کسی روز تُو امکان میں آ جائے گا
شہر میں اور تو کوئی نہیں اس کے جیسا
اپنی خوشبو ہی سے پہچان میں آ جائے گا
وہ بہت خوش ہے محبت کی تجارت کر کے
ایک دن دیکھنا نقصان میں آ جائے گا
اب عدالت میں لے جانے کی ضرورت کیا ہے
فیصلہ قتل کا زندان میں آ جائے گا
اس کہانی میں تِرا ہونا یوں بھی لازم ہے
یہ فسانہ کسی عنوان میں آ جائے گا
اسد تسکین
No comments:
Post a Comment