صفحات

Wednesday, 16 June 2021

شاخ سے ٹوٹ کے گلدان میں آ جائے گا

 شاخ سے ٹوٹ کے گلدان میں آ جائے گا

پھر کسی روز تُو امکان میں آ جائے گا

شہر میں اور تو کوئی نہیں اس کے جیسا

اپنی خوشبو ہی سے پہچان میں آ جائے گا

وہ بہت خوش ہے محبت کی تجارت کر کے

ایک دن دیکھنا نقصان میں آ جائے گا

اب عدالت میں لے جانے کی ضرورت کیا ہے

فیصلہ قتل کا زندان میں آ جائے گا

اس کہانی میں تِرا ہونا یوں بھی لازم ہے

یہ فسانہ کسی عنوان میں آ جائے گا


اسد تسکین

No comments:

Post a Comment