Wednesday, 16 June 2021

دکان حبس میں وہ جالیاں بناتا تھا

 دکانِ حبس میں وہ جالیاں بناتا تھا

گھٹن سے مر گیا جو کھڑکیاں بناتا تھا

تباہی یہ اسی پیپل کی بد دعا سے ہے

کہ جس کے سائے میں تُو آریاں بناتا تھا

تمام خواہشیں تالے لگا کے رکھتا تھا

وہ بے مکاں تھا مگر چابیاں بناتا تھا

کھِلا کے زہر جسے ذائقے کا پوچھا گیا

کبھی مٹھاس بھری ٹافیاں بناتا تھا

جو صبح تین بجے مر گیا خموشی سے

پتا چلا کہ وہی سیٹیاں بناتا تھا


احمد آشنا

No comments:

Post a Comment