اے اجنبی زندگی
لا یہ اب سانس کی پوٹلی میرے ہاتھوں میں دے
پھینک دے حکم نامہ کی تحریر کو
آ، میں تعویذ دوں، تُو محبت بنے
یہ اطاعت تو ذہنی غلامی کا اک طوق ہے
یاد رکھ سانس کی پوٹلی
جب اطاعت کانٹوں بھرے ہاتھ میں پھٹ گئی
تو اسے پھر سے سِلنا نہیں
میں نے جنت کے بدلے بھی ملنا نہیں
بابر علی اسد
No comments:
Post a Comment