صفحات

Sunday, 25 July 2021

اے اجنبی زندگی لا یہ اب سانس کی پوٹلی میرے ہاتھوں میں دے

 اے اجنبی زندگی

لا یہ اب سانس کی پوٹلی میرے ہاتھوں میں دے

پھینک دے حکم نامہ کی تحریر کو

آ، میں تعویذ دوں، تُو محبت بنے

یہ اطاعت تو ذہنی غلامی کا اک طوق ہے

یاد رکھ سانس کی پوٹلی 

جب اطاعت کانٹوں بھرے ہاتھ میں پھٹ گئی 

تو اسے پھر سے سِلنا نہیں

میں نے جنت کے بدلے بھی ملنا نہیں


بابر علی اسد

No comments:

Post a Comment