زندگی کا نصاب مانگتا ہے
وقت ام الکتاب مانگتا ہے
پست اندھیروں سے ہو کے عہد نو
اک نیا آفتاب مانگتا ہے
کتنا معصوم ہے مرا بچہ
مجھ سے وہ ماہتاب مانگتا ہے
تنگدستی اڑا رہی ہے مذاق
میرا بچہ کتاب مانگتا ہے
وہ جو کرتا تھا قتل کلیوں کا
آج برگِ گلاب مانگتا ہے
جس کو پینے کا کچھ شعور نہیں
وہ بھی جامِ شراب مانگتا ہے
ظلم اور جبر کرنے والوں سے
وقت اک دن حساب مانگتا ہے
ایسا محسوس ہو رہا ہے ہمیں
وقت اب انقلاب مانگتا ہے
جس کے خدمات کچھ صابر
آج وہ بھی خطاب مانگتا ہے
صابر جوہری
No comments:
Post a Comment