Friday, 3 December 2021

زندگی کا نصاب مانگتا ہے

 زندگی کا نصاب مانگتا ہے

وقت ام الکتاب مانگتا ہے

پست اندھیروں سے ہو کے عہد نو

اک نیا آفتاب مانگتا ہے

کتنا معصوم ہے مرا بچہ

مجھ سے وہ ماہتاب مانگتا ہے

تنگدستی اڑا رہی ہے مذاق

میرا بچہ کتاب مانگتا ہے

وہ جو کرتا تھا قتل کلیوں کا

آج برگِ گلاب مانگتا ہے

جس کو پینے کا کچھ شعور نہیں

وہ بھی جامِ شراب مانگتا ہے

ظلم اور جبر کرنے والوں سے

وقت اک دن حساب مانگتا ہے

ایسا محسوس ہو رہا ہے ہمیں

وقت اب انقلاب مانگتا ہے

جس کے خدمات کچھ صابر

آج وہ بھی خطاب مانگتا ہے


صابر جوہری

No comments:

Post a Comment