صفحات

Saturday, 1 January 2022

سوال ہے نہ ہی کوئی جواب آنکھوں میں

 سوال ہے نہ ہی کوئی جواب آنکھوں میں

ٹھہر گیا ہے کوئی اضطراب آنکھوں میں

نہ رتجگے ہیں نہ نیندیں نہ خواب ہے کوئی

اتر رہا ہے یہ کیسا عذاب آنکھوں میں

بھلا میں تشنہ لبی کا گِلہ کروں کیسے

کہ اب تو رہنے لگا ہے سیلاب آنکھوں میں

کتابِ عشق میرے دل سے لے گیا، لیکن

جانے کیوں چھوڑ گیا ایک باب آنکھوں میں

تمہارے دم سے ہی روشن اندھیری راتیں ہیں

ہے تیرے عکس کا اک ماہتاب آنکھوں میں


فرحت شکور

No comments:

Post a Comment