صفحات

Saturday, 1 January 2022

کس احتیاط سے سپنے سجانے پڑتے ہیں

 کس احتیاط سے سپنے سجانے پڑتے ہیں

یہ سنگ ریزے پلک سے اٹھانے پڑتے ہیں

بہت سے درد تو ہم بانٹ بھی نہیں سکتے

بہت سے بوجھ اکیلے اٹھانے پڑتے ہیں

یہ بات اس سے پتا کر جو عشق جانتا ہو

پلوں کی راہ میں کتنے زمانہ پڑتے ہیں

ہر ایک پیڑ کا سایا نہیں ملا کرتا

بلا غرض بھی تو پودے لگانے پڑتے ہیں

کسی کو دل سے بھلانے میں دیر لگتی ہے

یہ کپڑے کمرے کے اندر سکھانے پڑتے ہیں

کہاں سے لاؤ گے تم اس قدر جبینِ نیاز

قدم قدم پہ یہاں آستانے پڑتے ہیں


معین شاداب

No comments:

Post a Comment