کوہ کن کے خمار کی باتیں
سنگ،آہن، شرار کی باتیں
چھوڑو سب کاروبار کی باتیں
دارِ ناپائیدار کی باتیں
اب فقط راس یہ ہی آتی ہیں
زندگی سے فرار کی باتیں
پڑھ کے رویا بہت کوئی سرِگور
سنگِ لوحِ مزار کی باتیں
زندگی نے بتائیں شام کے وقت
تنگ ہوتے حصار کی باتیں
کس کو دکھلائیں کس کو بتلائیں
دامنِ تار تار کی باتیں
شبِ تیرہ کو رکھتی ہیں روشن
گیسوئے تابدار کی باتیں
وہ فقیروں میں آکے کرتے ہیں
کرسی و اقتدار کی باتیں
یہ وظیفہ ہے اب مِرا شب و روز
اس کے لیل و نہار کی باتیں
کیوں طبیعت پہ جبر کرتے ہو
کر کے تم اختیار کی باتیں
چین لینے نہ دیں گی تجھ کو بھی
تیرے اک جاں نثار کی باتیں
پھر تبسم زدہ تِرا وعدہ
پھر تِرے انتظار کی باتیں
کیا سمجھ پائیں مانی و بہزاد
ان کے نقش و نگار کی باتیں
جز تِرے ہر کوئی سمجھتا ہے
تیرے اس دلفگار کی باتیں
ان کی آنکھوں پہ ختم ہیں عاطف
آہوانِ تتار کی باتیں
عاطف علی
No comments:
Post a Comment