صفحات

Saturday, 1 January 2022

اپنے ہی شہر میں اجنبی ہو گیا

اپنے ہی شہر میں اجنبی ہو گیا

دوستوں نے جو چاہا وہی ہو گیا

غیر تو غیر اپنوں سے نسبت نہیں

کس قدر خود غرض آدمی ہو گیا

پیار، اخلاص، دل بستگی، دلبری

آج کل تو ہر پیکر کاغذی ہو گیا

قتل اس نے کیا اپنا کہہ کر مجھے

سارے الزام سے بھی بری ہو گیا

لوگ کیوں اس کو مغرور کہنے لگے

پیدا جس میں شعور خودی ہو گیا

کیا کوئی انقلاب اور آنے کو ہے

چہرہ غنچوں کا کیوں شبنمی ہو گیا

جو بھی گزرا ہے خالد تِری یاد میں

لمحہ وہ حاصل زندگی ہو گیا


خالد کوٹی

No comments:

Post a Comment