سوال ہے نہ ہی کوئی جواب آنکھوں میں
ٹھہر گیا ہے کوئی اضطراب آنکھوں میں
نہ رتجگے ہیں نہ نیندیں نہ خواب ہے کوئی
اتر رہا ہے یہ کیسا عذاب آنکھوں میں
بھلا میں تشنہ لبی کا گِلہ کروں کیسے
کہ اب تو رہنے لگا ہے سیلاب آنکھوں میں
کتابِ عشق میرے دل سے لے گیا، لیکن
جانے کیوں چھوڑ گیا ایک باب آنکھوں میں
تمہارے دم سے ہی روشن اندھیری راتیں ہیں
ہے تیرے عکس کا اک ماہتاب آنکھوں میں
فرحت شکور
No comments:
Post a Comment