صفحات

Saturday, 1 January 2022

اپنوں کی وجہ سے نہ تو اغیار کے باعث

 اپنوں کی وجہ سے نہ تو اغیار کے باعث

ٹھوکر تو لگی راہ میں رفتار کے باعث

زخمی بھی ہوئے ہاتھ کئی بار ہمارے

گلشن کی فضا میں بھی فقط خار کے باعث

کل تک میری خاموشیاں کَھلتی تھی جنہیں، وہ

ناراض ہیں مجھ سے میری گُفتار کے باعث

جلتا ہے تجلّی سے کہیں طُور کا دامن

کیا انگلیاں کٹ جائیں گی دیدار کے باعث

بند توڑ کے پلکوں کے بھی آنکھوں سے ہمارے

نکلے ہیں اسد! اشک بھی آزار کے باعث


اسد ہاشمی

No comments:

Post a Comment