صفحات

Monday, 21 February 2022

حقیقتوں میں چھپے فسانوں سے کھیلتی ہے

 حقیقتوں میں چھپے فسانوں سے کھیلتی ہے

قدیم علت نئے زمانوں سے کھیلتی ہے

کہیں پہ تمثیلِ خفتہ امکانِ تازہ تر کی

پنپنے والی نئی زبانوں سے کھیلتی ہے

بڑی مہارت سے وقت کی چشمِ شعبدہ گر

مکاں کے پردے میں لامکانوں سے کھیلتی ہے

کبھی کبھی تو شعورِ حیرت طلب کی شہ پر

مِری طبیعت تِرے جہانوں سے کھیلتی ہے

میں خود کلامی میں اپنے سب راز کہہ گیا ہوں

کہانی ایسے بھی داستانوں سے کھیلتی ہے

تجھے خبر ہے تِرے فلک کی سرشتِ کینہ

ہمارے معصوم خاکدانوں سے کھیلتی ہے


جنید آزر

No comments:

Post a Comment