صفحات

Monday, 21 February 2022

چمن کا حسن ابھی تک میرے حواس پہ ہے

 جو میرے نبض کو دیکھو مزاج کو سمجھو

چمن کا حسن ابھی تک میرے حواس پہ ہے

ستمگروں نے محبت کو کھیل سمجھا تھا

انہیں پتہ ہی نہیں کون کس کے آس پہ ہے

وہ خیمہ گاہ کے پیچھے جو آگ بھڑکی تھی

وہیں سے پچھلی طرف میرا گھر بھی راس پہ ہے

چراغ خون کے اپنے لہو کے گھاؤ تھے

جو بجھ گئے تو یہ الزام میری سانس پہ ہے

بھٹک رہا ہے یہ سورج بھی چاند کی راہ پر

جنوں کا سفر سہی چشم نم نکاس پہ ہے

بہو کا شرط سخن ہے یا اس کی مجبوری

جو سارا زور ہے اس کا تمام ساس پہ ہے


تقی حسن

No comments:

Post a Comment