جو میرے نبض کو دیکھو مزاج کو سمجھو
چمن کا حسن ابھی تک میرے حواس پہ ہے
ستمگروں نے محبت کو کھیل سمجھا تھا
انہیں پتہ ہی نہیں کون کس کے آس پہ ہے
وہ خیمہ گاہ کے پیچھے جو آگ بھڑکی تھی
وہیں سے پچھلی طرف میرا گھر بھی راس پہ ہے
چراغ خون کے اپنے لہو کے گھاؤ تھے
جو بجھ گئے تو یہ الزام میری سانس پہ ہے
بھٹک رہا ہے یہ سورج بھی چاند کی راہ پر
جنوں کا سفر سہی چشم نم نکاس پہ ہے
بہو کا شرط سخن ہے یا اس کی مجبوری
جو سارا زور ہے اس کا تمام ساس پہ ہے
تقی حسن
No comments:
Post a Comment