حقیقتوں میں چھپے فسانوں سے کھیلتی ہے
قدیم علت نئے زمانوں سے کھیلتی ہے
کہیں پہ تمثیلِ خفتہ امکانِ تازہ تر کی
پنپنے والی نئی زبانوں سے کھیلتی ہے
بڑی مہارت سے وقت کی چشمِ شعبدہ گر
مکاں کے پردے میں لامکانوں سے کھیلتی ہے
کبھی کبھی تو شعورِ حیرت طلب کی شہ پر
مِری طبیعت تِرے جہانوں سے کھیلتی ہے
میں خود کلامی میں اپنے سب راز کہہ گیا ہوں
کہانی ایسے بھی داستانوں سے کھیلتی ہے
تجھے خبر ہے تِرے فلک کی سرشتِ کینہ
ہمارے معصوم خاکدانوں سے کھیلتی ہے
جنید آزر
No comments:
Post a Comment