اب جو بھیگے جناب بارش میں
ہو گی نیت خراب بارش میں
میں جو بہکا تو شور کیسا ہے
ہے اُمڈتا چناب بارش میں
پھر سے آ جاؤ ملنے جانِ جاں
نہیں رکھتے حساب بارش میں
آج توبہ کو توڑ کر واعظ
پئیں مل کے شراب بارش میں
مولا! آخر بنایا ہی کیوں تھا
ہجر کا یہ عذاب بارش میں
اپنے گیسو جو اس نے بکھرائے
کُھل کے برسے سحاب بارش میں
اس کی تکمیل شرطِ اوّل ہے
آپ دیکھو جو خواب بارش میں
ہے دوش برسات کا فقط ساجد
ہوا خانہ خراب بارش میں
ساجد آہیر
No comments:
Post a Comment