صفحات

Friday, 10 June 2022

میری آنکھوں کو خواب دے دینا

میری آنکھوں کو خواب دے دینا

میرے خط کا جواب دے دینا

اس میں اس کا ہی ذکر ہے یارو

اس کو میری کتاب دے دینا

یاد ہے اب تلک مجھے اس کا

دل کے بدلے گلاب دے دینا

یہ کہاں کا اصول ہے مالک

خود سروں کو شباب دے دینا

تیری آنکھوں میں میکدہ ساقی

ایک قطرہ شراب دے دینا

وہ رحیم و کریم ہے کاظم

ہر خطا کا حساب دے دینا


کاظم حسین کاظمی

No comments:

Post a Comment