میری آنکھوں کو خواب دے دینا
میرے خط کا جواب دے دینا
اس میں اس کا ہی ذکر ہے یارو
اس کو میری کتاب دے دینا
یاد ہے اب تلک مجھے اس کا
دل کے بدلے گلاب دے دینا
یہ کہاں کا اصول ہے مالک
خود سروں کو شباب دے دینا
تیری آنکھوں میں میکدہ ساقی
ایک قطرہ شراب دے دینا
وہ رحیم و کریم ہے کاظم
ہر خطا کا حساب دے دینا
کاظم حسین کاظمی
No comments:
Post a Comment