صفحات

Sunday, 18 September 2022

نفاق سے خدا بچائے روگ یہ شدید ہے

 نفاق


نفاق سے خدا بچائے روگ یہ شدید ہے

بلائے جانِ آدمی، نشانِ بزدلی ہے یہ

زوالِ آدمی ہے یہ، وبالِ آدمی ہے یہ

اگر کہوں درست ہے کہ مرگِ آدمی ہے یہ

یہ گندگی کا ڈھیر ہے غلاف میں ڈھکا چھپا

یہ خوفناک زہر ہے مٹھاس میں ملا جُلا

وبائے ہولناک ہے،۔ بلائے ہولناک ہے

یہ چلتی پھرتی آگ ہے دیار و ملک و شہر میں

نفاق سے خدا بچائے روگ یہ خبیث ہے

لباس جسم آدمی میں کوڑھ ہے چھپا ہوا

منافقوں کی خصلتیں عجیب ہیں غریب ہیں

زباں پہ کچھ ہے دل میں کچھ 

کہیں گے کچھ کریں گے کچھ

زباں پہ دوستی کا راگ آستین میں چھری

دلوں میں بغض ہے بھرا مگر لبوں پہ ہے ہنسی

زبان پر خدا کی رٹ دلوں میں فکر شیطنت

یہ اپنے آپ ہیں خدا غرض کو پوجتے ہیں یہ

یہ نفس کے غلام ہیں مفاد کے غلام ہیں

یہ اپنے آپ مقتدی یہ اپنے خود امام ہیں


احمد عروج قادری

No comments:

Post a Comment