صفحات

Sunday, 18 September 2022

جب کبھی ہم بھی محترم ہوں گے

 جب کبھی ہم بھی محترم ہوں گے

تب ترے سب ستم رقم ہوں گے

اشک ریزاں رہیں گے ساری عمر

عشق کے امتحاں نہ کم ہوں گے

دور بھاگو گے اپنے سائے سے

جب جہاں میں کہیں نہ ہم ہوں گے

پاس آؤ ذرا سی دیر تو تم

کچھ تو صدمے دلوں کے کم ہوں گے

ناز سارے ترے اٹھا لیں گے

لوٹ آؤ کہ پھر نہ ہم ہوں گے

زیرِ لب ہی رہیں گلے شکوے

آہ کرنے سے کم نہ غم ہوں گے

ہوش ہوتا تو کیوں اُدھر جاتے

بےخودی میں اٹھے قدم ہوں گے

وعدہ اجلال کر لیا ہم نے

دل میں جب تک رہا وہ، ہم ہوں گے


اجلال حسین

No comments:

Post a Comment