جب کبھی ہم بھی محترم ہوں گے
تب ترے سب ستم رقم ہوں گے
اشک ریزاں رہیں گے ساری عمر
عشق کے امتحاں نہ کم ہوں گے
دور بھاگو گے اپنے سائے سے
جب جہاں میں کہیں نہ ہم ہوں گے
پاس آؤ ذرا سی دیر تو تم
کچھ تو صدمے دلوں کے کم ہوں گے
ناز سارے ترے اٹھا لیں گے
لوٹ آؤ کہ پھر نہ ہم ہوں گے
زیرِ لب ہی رہیں گلے شکوے
آہ کرنے سے کم نہ غم ہوں گے
ہوش ہوتا تو کیوں اُدھر جاتے
بےخودی میں اٹھے قدم ہوں گے
وعدہ اجلال کر لیا ہم نے
دل میں جب تک رہا وہ، ہم ہوں گے
اجلال حسین
No comments:
Post a Comment