صفحات

Thursday, 9 March 2023

ہم خالی جگہوں سے گھرے ہوئے ہیں

 ہم خالی جگہوں سے گھرے ہوئے ہیں


کہیں پر انجانے میں کوئی خالی جگہ بنا کے

اور پھر اسے ڈھونڈ کر بھرنے میں

ہماری زندگی گزر جاتی ہے

ایک دن طاق پر دیا رکھتے ہوئے

مجھے احساس ہوا

دیے اور آنکھ کے درمیان

ایک خالی جگہ رکھی ہوئی ہے

اب جسے رات بھر

میں اپنے خوابوں سے بھرتا ہوں

میری ماں کی زندگی

اسی گھر کے اندر

کوئی خالی جگہ دیکھ کر

اسے آرائش کے ذریعے بھرنے میں گزر گئی

وہ ہمیشہ ایک خالی جگہ بھرنے کی کوشش میں

ایک اور خالی جگہ بنا لیتی تھی

میرے باپ نے اپنی زندگی کا آخری حصہ

گھر کے دالان میں اپنے ہاتھوں سے لگائے گئے

گلاب کے پھولوں کی کیاریوں میں

خود کلامی کرتے ہوئے

خالی جگہیں ڈھونڈنے میں گزار دیا

میں نے خواب دیکھے

اور ایک محبت کی

ایک دوسرے کو بوسہ دیتے ہوئے

اس نے میرے لبوں پر ایک خالی جگہ بنا دی

جسے کسی کے لب نہیں بھر سکے

ہم خالی جگہوں سے گھرے ہوئے ہیں

ہمیں احتیاط کرنی چاہیے

آرائش کرتے ہوئے

پھول بوتے ہوئے

اور محبت کرتے ہوئے


رضوان فاخر 

No comments:

Post a Comment