ہم خالی جگہوں سے گھرے ہوئے ہیں
کہیں پر انجانے میں کوئی خالی جگہ بنا کے
اور پھر اسے ڈھونڈ کر بھرنے میں
ہماری زندگی گزر جاتی ہے
ایک دن طاق پر دیا رکھتے ہوئے
مجھے احساس ہوا
دیے اور آنکھ کے درمیان
ایک خالی جگہ رکھی ہوئی ہے
اب جسے رات بھر
میں اپنے خوابوں سے بھرتا ہوں
میری ماں کی زندگی
اسی گھر کے اندر
کوئی خالی جگہ دیکھ کر
اسے آرائش کے ذریعے بھرنے میں گزر گئی
وہ ہمیشہ ایک خالی جگہ بھرنے کی کوشش میں
ایک اور خالی جگہ بنا لیتی تھی
میرے باپ نے اپنی زندگی کا آخری حصہ
گھر کے دالان میں اپنے ہاتھوں سے لگائے گئے
گلاب کے پھولوں کی کیاریوں میں
خود کلامی کرتے ہوئے
خالی جگہیں ڈھونڈنے میں گزار دیا
میں نے خواب دیکھے
اور ایک محبت کی
ایک دوسرے کو بوسہ دیتے ہوئے
اس نے میرے لبوں پر ایک خالی جگہ بنا دی
جسے کسی کے لب نہیں بھر سکے
ہم خالی جگہوں سے گھرے ہوئے ہیں
ہمیں احتیاط کرنی چاہیے
آرائش کرتے ہوئے
پھول بوتے ہوئے
اور محبت کرتے ہوئے
رضوان فاخر
No comments:
Post a Comment