صفحات

Thursday, 9 March 2023

گھر کی دہلیز پر میری ماں

 متبادل


عام سی شام ہو

لیکن اس شام کے راستے میرے گھر جا رکیں

گھر کی دہلیز پر میری ماں 

مسکراتے ہوئے میرے گزرے دنوں کی تھکن چوم لے

شام کی سرحدوں سے مؤذن پکارے تو

سب بھائی بہنوں کی چپ میں مِری چپ بھی ہو

شام کی سیج پر باپ کے جسم سے میرے بازو اگیں

جب منڈیروں پہ رکھے دِیے جگمگانے لگیں

ٹوٹتے فرش پر میرا بھی عکس ہو

میرا بھی نام ہو

عام سی شام ہو


جاوید انور

No comments:

Post a Comment