متبادل
عام سی شام ہو
لیکن اس شام کے راستے میرے گھر جا رکیں
گھر کی دہلیز پر میری ماں
مسکراتے ہوئے میرے گزرے دنوں کی تھکن چوم لے
شام کی سرحدوں سے مؤذن پکارے تو
سب بھائی بہنوں کی چپ میں مِری چپ بھی ہو
شام کی سیج پر باپ کے جسم سے میرے بازو اگیں
جب منڈیروں پہ رکھے دِیے جگمگانے لگیں
ٹوٹتے فرش پر میرا بھی عکس ہو
میرا بھی نام ہو
عام سی شام ہو
جاوید انور
No comments:
Post a Comment