صفحات

Thursday, 9 March 2023

کبھی جو بیت جاتے ہیں زمانے یاد آتے ہیں

 کبھی جو بیت جاتے ہیں زمانے یاد آتے ہیں

پرانے دور کے قصے سُہانے یاد آتے ہیں

کبھی ہم کو سُلانے کو وہ ماں لوری سناتی تھی

ہمیں اب بھی وہ میٹھے سے ترانے یاد آتے ہیں

جہاں بچپن کبھی بیتا مِرے بابل! تِرا انگنا

سبھی کے سنگ ہسنے اور ہنسانے یاد آتے ہیں

سکھی جو سنگ کھیلی تھی مِری پکی سہیلی تھی

سہیلی وہ کہیں بچھڑی زمانے یاد آتے ہیں

وہ ساون جھوم کر آنا وہ مل کر سیر کو جانا

وہ برساتوں میں بھیگے ہم دِوانے یاد آتے ہیں

مِرے استاد وہ پیارے وہ ان کی شفقتیں ساری

سبق ان کے سکھائے سب پرانے یاد آتے ہیں

شرارت جو کبھی کی تھی وہ گڑیاؤں کی شادی بھی

کسی شادی پہ گائے تھے جو گانے یاد آتے ہیں

مِرا وہ ڈائری لکھنا وہ پہلی شاعری لکھنا

وہ دل سے جو کبھی لکھے فسانے یاد آتے ہیں

حمیرا! کھو گیا بچپن نہ بابا ہیں نہ وہ گلشن

تھے ہم نادان وہ سارے سیانے یاد آتے ہیں


حمیرا قریشی

No comments:

Post a Comment