صفحات

Thursday, 9 March 2023

اشک ہرگز مداوا نہیں ہیں مگر اک دلاسہ تو ہیں

 اشک ہرگز مداوا نہیں ہیں مگر

اک دلاسہ تو ہیں

آئیے اشک حاضر کریں 

ان بلکتے ہوئے خاندانوں کے کٹتے کلیجوں پہ گریہ کریں

جن کے نوخیز پھولوں کو ظلمت کی آندھی اڑا لے گئی

اپنے اپنے گھروں میں چراغوں کو روشن کریں

ان نگاہوں کی بے چارگی

جو قیامت تلک اپنے پیاروں کی تصویر سینے لگائے

مِری جان! کہ کر بہت روئیں گی

ان کو پُرسہ کہیں

آئیے ان سخی مرتبت ماؤں بہنوں کی ہمت پہ 

اپنے سروں کو جھکا کر سلامی کہیں

وہ جنہوں نے بنامِ وطن اپنے عثمان و حیدر کو صدقہ کِیا

آئیے اشک حاضر کریں 

سیدہ فاطمہؑ کی ردائے مقدس کی اجلی قسم کھا کے وعدہ کریں

ان تڑپتی سسکتی بلکتی ہوئی ماؤں بہنوں سے 

اور اپنے ننھے شہیدوں کی معصوم روحوں سے وعدہ کریں

عصرِ حاضر کی تازہ تریں کربلا ہم نہیں بھولیں گے

بس بہت ہو گیا

ہم مسالک میں بٹ کر تہی ہو گئے

لازمی تھے کبھِی، واجبی ہو گئے

آئیے مل کے وعدہ کریں

سب ارادہ کریں

اپنے اپنے گریبان میں جھانک کر

مسلکی مذہبی نفرتوں کو دلوں سے روانہ کریں

اِن شہیدوں کی روحوں کو ناظر کریں

اشک حاضر کریں

اشک حاضر کریں


علی زریون

No comments:

Post a Comment