اشک ہرگز مداوا نہیں ہیں مگر
اک دلاسہ تو ہیں
آئیے اشک حاضر کریں
ان بلکتے ہوئے خاندانوں کے کٹتے کلیجوں پہ گریہ کریں
جن کے نوخیز پھولوں کو ظلمت کی آندھی اڑا لے گئی
اپنے اپنے گھروں میں چراغوں کو روشن کریں
ان نگاہوں کی بے چارگی
جو قیامت تلک اپنے پیاروں کی تصویر سینے لگائے
مِری جان! کہ کر بہت روئیں گی
ان کو پُرسہ کہیں
آئیے ان سخی مرتبت ماؤں بہنوں کی ہمت پہ
اپنے سروں کو جھکا کر سلامی کہیں
وہ جنہوں نے بنامِ وطن اپنے عثمان و حیدر کو صدقہ کِیا
آئیے اشک حاضر کریں
سیدہ فاطمہؑ کی ردائے مقدس کی اجلی قسم کھا کے وعدہ کریں
ان تڑپتی سسکتی بلکتی ہوئی ماؤں بہنوں سے
اور اپنے ننھے شہیدوں کی معصوم روحوں سے وعدہ کریں
عصرِ حاضر کی تازہ تریں کربلا ہم نہیں بھولیں گے
بس بہت ہو گیا
ہم مسالک میں بٹ کر تہی ہو گئے
لازمی تھے کبھِی، واجبی ہو گئے
آئیے مل کے وعدہ کریں
سب ارادہ کریں
اپنے اپنے گریبان میں جھانک کر
مسلکی مذہبی نفرتوں کو دلوں سے روانہ کریں
اِن شہیدوں کی روحوں کو ناظر کریں
اشک حاضر کریں
اشک حاضر کریں
علی زریون
No comments:
Post a Comment